مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: امریکہ نے ایران کے خلاف دباؤ بڑھانے کے لیے آئرن گیٹ کے نام سے ایک نیا منصوبہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق، اس مقصد کے لیے ایک خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دی گئی ہے، جو ایران تک جدید ہتھیاروں، دوہرے استعمال کی ٹیکنالوجی اور پابندیوں کی زد میں آنے والی اشیا کی منتقلی روکنے کے لیے کام کرے گی۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، تقریباً 20 فوجی اور سویلین اہلکاروں پر مشتمل یہ ٹاسک فورس امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر ٹمپا میں قائم ہوگی۔ اس کا بنیادی مقصد امریکی حکومت کے مختلف اداروں کے درمیان رابطہ کاری کے ذریعے ایران کے زمینی سرحدی اور بحیرۂ خزر کے تجارتی راستوں کی نگرانی اور ان کے ذریعے سامان کی ترسیل محدود کرنا ہے۔
سینٹکام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے دعوی کیا ہے کہ اس اقدام سے ایران کی مالی وسائل تک رسائی، دفاعی صنعتوں کی تعمیرِ نو اور فوجی ذخائر کی بحالی کی صلاحیت محدود ہو جائے گی۔ سینٹکام کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ امریکی بحری ناکہ بندی کے نتیجے میں اب تک ایران کو 25 ارب ڈالر سے زائد مالیت کا خام تیل برآمد کرنے سے روکا جاچکا ہے۔
تاہم اس منصوبے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ کی جانب سے دباؤ کے نئے ذرائع اختیار کرنے کی یہ کوشش محض ایک انتظامی اور انٹیلی جنس اقدام نہیں، بلکہ طویل عرصے کی بحری ناکہ بندی اور فوجی دباؤ کے باوجود مطلوبہ اہداف حاصل نہ ہونے کے بعد تقابل کا دائرہ اقتصادی اور تجارتی محاذ تک پھیلانے کی حکمت عملی ہے۔ جغرافیائی، قانونی اور سیاسی حقائق اس منصوبے کے عملی نفاذ میں متعدد رکاوٹیں پیدا کرسکتے ہیں۔
بحری ناکہ بندی سے زمینی راستوں تک دباؤ کی توسیع
امریکی حکمت عملی میں سب سے نمایاں تبدیلی دباؤ کے جغرافیائی دائرے کی توسیع ہے۔ واشنگٹن اب سمندری راستوں کے علاوہ ایران کے متبادل تجارتی اور رسدی راستوں کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
اس حوالے سے وال اسٹریٹ جرنل کی 22 اکتوبر کی رپورٹ میں عراق اور پاکستان کی سرحدوں پر پابندیوں اور ترکی کی سرحد پر ٹرکوں کی آمدورفت میں تاخیر کا ذکر کیا گیا تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے زمینی تجارتی راستوں کو محدود کرنے کا معاملہ نئے ٹاسک فورس کے باضابطہ اعلان سے پہلے ہی امریکی دباؤ کی حکمت عملی کا حصہ بن چکا تھا۔
تاہم دباؤ کے جغرافیائی دائرے کو وسعت دینا لازماً اس بات کی ضمانت نہیں کہ امریکہ اپنے تمام اہداف حاصل کر سکے گا۔ ایران کی سات ممالک کے ساتھ زمینی سرحدیں ہیں، جن کی مجموعی لمبائی تقریباً 5 ہزار 894 کلومیٹر ہے۔ اس کے علاوہ بحیرۂ خزر میں ایران کی ساحلی پٹی تقریباً 740 کلومیٹر طویل ہے۔
اس وسیع جغرافیائی حدود میں تجارتی راستوں کی مؤثر نگرانی کے لیے ہمسایہ ممالک کا مسلسل تعاون، کسٹمز کے نظام پر کنٹرول، درست انٹیلی جنس معلومات اور مختلف سکیورٹی و اقتصادی اداروں کی مشترکہ کوششیں درکار ہیں۔ یہ تمام امور براہِ راست سینٹکام کے اختیار میں نہیں ہیں۔
دروازے کی چابی ہمسایہ ممالک کے ہاتھ میں
امریکی منصوبے کی کامیابی میں دوسری بڑی رکاوٹ ہمسایہ ممالک کے سیاسی فیصلے اور ان کے اپنے قومی مفادات ہیں۔ ایران کے زمینی راستوں کو محدود کرنے کے لیے واشنگٹن کو عراق، ترکی، پاکستان، آذربائیجان، آرمینیا اور ترکمانستان جیسے ممالک کا تعاون حاصل کرنا ہوگا۔
تاہم یہ ممالک امریکی خارجہ پالیسی کے محض تابع نہیں ہیں، بلکہ ان کے اپنے اقتصادی، سلامتی اور تزویراتی مفادات ہیں۔ ایران کے ساتھ تجارت ان میں سے بعض ممالک کے لیے اقتصادی اور حتیٰ کہ سلامتی کے اعتبار سے بھی اہمیت رکھتی ہے۔ ایسے میں تمام تجارتی گزرگاہوں کو بڑے پیمانے پر بند کرنے سے ان ممالک کے اپنے تجارتی مفادات کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
عراق اور پاکستان کی سرحدوں پر حالیہ پابندیوں کے تجربات بھی ظاہر کرتے ہیں کہ بیرونی دباؤ کے باوجود سرحدی گزرگاہوں کی صورتحال سیاسی حالات اور دوطرفہ مذاکرات سے متاثر ہوتی ہے۔ لہٰذا فلوریڈا میں ایک خصوصی ٹاسک فورس کے قیام کو اس بات کی ضمانت نہیں سمجھا جا سکتا کہ امریکہ ایران کے تمام زمینی راستوں کو کنٹرول یا بند کرنے کی صلاحیت حاصل کر لے گا۔
بحیرۂ خزر؛ امریکی منصوبے کی قانونی رکاوٹ
امریکی منصوبے کے سامنے تیسری اور شاید سب سے اہم رکاوٹ بحیرۂ خزر کی قانونی اور جغرافیائی حیثیت ہے۔ خلیج فارس اور بحیرۂ عمان کے برعکس بحیرۂ خزر ایک محصور آبی خطہ ہے، جس کے ساحلی ممالک ایران، روس، آذربائیجان، قازقستان اور ترکمانستان ہیں۔
2018 میں ان پانچوں ممالک نے کنونشن برائے قانونی حیثیتِ بحیرۂ خزر پر دستخط کیے تھے۔ اس کنونشن کے آرٹیکل 3 کی شق 6 میں غیر ساحلی ممالک کی مسلح افواج کی بحیرۂ خزر میں موجودگی ممنوع قرار دی گئی ہے۔ اسی آرٹیکل کی شق 7 کے تحت رکن ممالک کسی دوسرے ساحلی ملک کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے اپنی سرزمین کسی غیر ملکی طاقت کے استعمال میں نہیں دے سکتے۔
یہ قانونی فریم ورک بحیرۂ خزر میں امریکی فوجی موجودگی کے امکانات کو محدود کرتا ہے۔ اگرچہ واشنگٹن انٹیلی جنس، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی دباؤ کے ذریعے اس خطے کی تجارت پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر سکتا ہے، لیکن ان ذرائع کو حقیقی بحری ناکہ بندی میں تبدیل کرنا ایک بالکل مختلف اور پیچیدہ معاملہ ہے۔
20 رکنی ٹاسک فورس اور وسیع تجارتی نیٹ ورک
اس منصوبے کا ایک اور اہم پہلو اس کی عملیاتی صلاحیت ہے۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، آئرن گیٹ کے تحت قائم ہونے والی ٹاسک فورس تقریباً 20 فوجی اور سویلین اہلکاروں پر مشتمل ہوگی اور فلوریڈا کے شہر ٹمپا میں کام کرے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایران کی سرحدوں پر تعینات کوئی فوجی دستہ یا سامان کی براہِ راست ضبطی کے لیے تشکیل دی گئی عملیاتی فورس نہیں، بلکہ امریکی اداروں کے درمیان رابطہ کاری اور معلومات کے تبادلے کا ایک نظام ہے۔
ایسی ٹاسک فورس تجارتی نیٹ ورکس کی شناخت، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے، مخصوص کمپنیوں پر پابندیاں عائد کرنے اور درمیانی تجارتی اداروں پر دباؤ ڈالنے کے ذریعے ایران کی تجارت کو مہنگا اور مشکل بنا سکتی ہے۔ تاہم ایک وسیع رقبے، متنوع معیشت اور متعدد ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارت کرنے والے ملک کے تمام تجارتی راستوں کی شناخت اور انہیں روکنا ایک انتہائی پیچیدہ ذمہ داری ہے۔
اس لیے ایک 20 رکنی انتظامی اور انٹیلی جنس ڈھانچے کے قیام کو ایران کے تمام تجارتی راستوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے مترادف قرار نہیں دیا جا سکتا۔
فوجی اہداف میں ناکامی کے بعد اقتصادی محاذ پر دباؤ
آئرن گیٹ کو امریکہ اور ایران کے درمیان جاری وسیع تر کشیدگی کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔ جب فوجی ذرائع مطلوبہ سیاسی اہداف حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوں تو اقتصادی دباؤ، تجارتی پابندیوں اور رسدی راستوں کو محدود کرنے جیسے متبادل طریقے اختیار کیے جاتے ہیں۔
اسی تناظر میں نئے ٹاسک فورس کا قیام واشنگٹن کی جانب سے فوجی اور بحری دباؤ کی محدودیت کے بعد تقابل کو اقتصادی، تجارتی اور رسدی شعبوں تک وسعت دینے کی کوشش قرار دیا جا سکتا ہے۔
تاہم امریکہ کی اس حکمت عملی کو بھی ان ہی مشکلات کا سامنا ہے جو اس کی دباؤ کی پالیسیوں کو درپیش رہی ہیں۔ کسی ملک پر اقتصادی دباؤ ڈالنے اور اس دباؤ کو مطلوبہ سیاسی و تزویراتی نتائج میں تبدیل کرنے کے درمیان واضح فرق موجود ہے۔ پابندیوں اور تجارتی رکاوٹوں کے ذریعے مشکلات پیدا کرنا ممکن ہے، لیکن اس سے لازماً مطلوبہ سیاسی نتائج حاصل نہیں ہوتے۔
بڑے دعوے، محدود عملی صلاحیت
مجموعی طور پر آئرن گیٹ کے قیام کو ایران کے خلاف امریکی دباؤ کے ایک نئے مرحلے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، تاہم اسے ایران کی مکمل زمینی اور بحری ناکہ بندی کے مترادف قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
یہ منصوبہ ایران کی بعض حساس درآمدات، مخصوص تجارتی نیٹ ورکس اور درمیانی کمپنیوں کے لیے مشکلات پیدا کر سکتا ہے اور اس کی تجارت کی لاگت میں اضافہ بھی کرسکتا ہے، لیکن ایران کے تمام زمینی اور بحری راستوں کو کنٹرول کرنے کے لیے امریکہ کو وسیع جغرافیائی، سیاسی اور اقتصادی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اس مقصد کے لیے نہ صرف ایران کے متنوع تجارتی نیٹ ورکس کی شناخت اور نگرانی ضروری ہے، بلکہ ہمسایہ ممالک کا مستقل اور مؤثر تعاون بھی حاصل کرنا ہوگا، جس کی کوئی ضمانت موجود نہیں۔
لہٰذا آئرن گیٹ کے ذریعے ایران کی مکمل ناکہ بندی کا تصور خطے کے جغرافیائی، قانونی اور تزویراتی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ یہ منصوبہ اگرچہ ایران کی بعض تجارتی سرگرمیوں کو متاثر کرسکتا ہے، لیکن تمام راستے بند کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ درحقیقت یہ امریکہ کی جانب سے فوجی اور بحری دباؤ کی حدود کے بعد اقتصادی اور تجارتی محاذ پر دباؤ بڑھانے کی ایک نئی کوشش ہے، جس کی کامیابی کے راستے میں واشنگٹن کے بلند عزائم اور خطے کی زمینی حقیقتوں کے درمیان موجود فاصلہ سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
آپ کا تبصرہ